تین سالہ ریحان نامی بچہ آج دوپہر سے ڈیرہ اسماعیل خان، ظفر آباد سے لاپتہ ہے۔ اگر کسی کو ملے تو براہ کرم ان نمبروں پر اطلاع دیں:
0323-9121781
0343-8270567
براہ کرم اس پیغام کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ شکریہ!
تین سالہ ریحان نامی بچہ آج دوپہر سے ڈیرہ اسماعیل خان، ظفر آباد سے لاپتہ ہے۔ اگر کسی کو ملے تو براہ کرم ان نمبروں پر اطلاع دیں:
0323-9121781
0343-8270567
براہ کرم اس پیغام کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ شکریہ!
سیاست کتنی گھٹیا اور ناپاک چیز ہے، ایک معصوم انسان اپنی خون میں لت پت پڑا ہوا ہے، اور سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا انسان بے حس اور سفاکی سے ہنس رہا ہے جیسے وہ کوئی جانور ہو جو مر چکا ہو
جب نظام یا حکومتیں زوال کے قریب ہوتی ہیں، تو لاشوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور مُردوں پر طنز کیا جاتا ہے۔
یہ بات مانیں یا نہ مانیں، مگر آنے والا وقت بے حد خطرناک اور خوفناک ہوگا۔
لیبیا کے مفتیِ اعظم شیخ صادق الغریانی نے کہا ہے کہ جو شخص ایک بار حج اور عمرہ کر لے، وہ اسے دوبارہ نہ دہرائے کیونکہ سعودی حکومت حاجیوں سے حاصل ہونے والی رقم کو فساد اور مسلمانوں کے قتل میں استعمال کرتی ہے۔
الغریانی نے مزید کہا کہ یہ میرا فتویٰ ہے اور اس کا جواب دہ میں اللہ کے سامنے ہوں گا۔
دماؤنا سقطت على الطريق
فهل من نصرٍ يأتينا؟
ہمارا خون سڑکوں پر بہا،
کیا کوئی مدد ہمیں آئے گی؟
💔
سیاست کرو، ایک دوسرے کو دلائل کے ذریعے مغلوب کرو، مگر اس قدر پست نہ بنو کہ چاک چاک انسانی لاشوں پر تمسخر اڑاؤ اور ان کی بے حرمتی کرو
جمہوریت، جسے عام طور پر انسانوں کے لیے ایک بہتر نظام سمجھا جاتا ہے، اگر واقعی ایسا ہوتا تو آج انسانوں کی لاشوں پر کوئی نہ ہنستا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام بھی انسانیت کی بقا اور عدل فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے.
😜
! جھوٹ
تمہارے ہتھیار مظلوموں کی صدا کو نہیں دبا سکتے۔ عدل و انصاف کا قیام ہی قوموں کی کامیابی ہے، ظالم حکمرانوں کے انجام سے عبرت حاصل کرو، تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کا انجام ہمیشہ تباہی ہے
مظلوم عوام پر گولیاں مت برساؤ! تمہاری گولیوں سے ان کا عزم مزید پختہ ہوگا۔ یہ عوام تمہاری ظالمانہ حکمرانی کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے۔ تمہاری دہشت کا خاتمہ ہوگا، اور یہ آزادی کی جیت پائیں گے
جاید صاحب! ❤
میں اس وقت اپنی زندگی کے سب سے مشکل اور کربناک دور سے گزر رہا ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو اور میرے وجود کے ہر گوشے میں بے بسی اور غم نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں
آپ سب سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اپنی نیک دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں😢🙏
💔
اٹلی نے نیتن یاہو،گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری کو جی سیون کے ایجنڈے میں شامل کرلیا.
ماہرین کے اندازے کے مطابق ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ بارود غزہ پر برسایا گیا ہے💔
انٹرنیٹ بندش کا سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ ہمیں جیو نیوز کی لائیو نشریات دیکھنی پڑتی ہیں۔😒
یہ ملک تو ہمارا خواب تھا، لیکن آج یہ خواب ہمارے لیے ایک خوفناک حقیقت بن گیا ہے۔ ہم نہ جی سکتے ہیں، نہ مر سکتے ہیں۔
بادشاہ سلامت!
ہم بھوکے ہیں، ہم بے گھر ہیں، اور آپ نے ہماری آخری سہارا، انٹرنیٹ بھی بند کر دیا۔ یہ وہی انٹرنیٹ تھا جس سے ہم اپنی مشکلات بانٹتے تھے، جس سے ہم روزی روٹی کا بندوبست کرتے تھے۔ آپ نے وہ بھی ہم سے چھین لیا۔
نہیں چل رہا
یہ صرف آنکھوں کا دھوکا ہے
ریاست کی یہ بے حسی اور مجرمانہ خاموشی پشتونخوا کے مظلوم عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے۔ یہ ظلم اور بربریت کب رکے گی؟ اور کیا ہم ہمیشہ اسی طرح کٹے سروں اور جلی بستیوں کا ماتم کرتے رہیں گے
کوئی ہے جو اس سفاکی اور ظلم کے خلاف کھڑا ہو؟ کہاں ہے ریاست جو عوام کی جان و مال کی محافظ ہونے کی دعوے دار ہے؟ کہاں ہیں وہ دعوے جو امن و انصاف کے نام پر کیے جاتے تھے؟
یہ پشتونخوا وطن کے المناک حالات ہیں، جہاں انسانیت کو دفن کر دیا گیا ہے اور لاشوں کی بے حرمتی عام ہو چکی ہے۔ یہ دیوار پر لٹکا ہوا سر مسجد کے امام، اورنگزیب کا ہے، جنہیں کل کرم میں درندگی کی انتہا کرتے ہوئے بے رحمی سے قتل کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ مسلم امہ پر رحم فرمائے۔
یہ حالات واقعی بہت تکلیف دہ ہیں۔
لیکن مولانا اس میں اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کیطرف سے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کہتے ہیں:
"میں نے آج کیطرح کبھی ایسا فخر محسوس نہیں کیا، ہم اپنے اصولوں پر قائم رہیں گے، اور جبتک فلسطینی عوام کو آزادی نہیں ملتی، ہم حقیقی طور پر آزاد نہیں ہوں گے
اسد منصور
یہ غزا نہیں، یہ رفح نہیں، یہ خان یونس بھی نہیں، یہ کرم ایجنسی ہے،یہ دھواں، جو آسمان کو چھو رہا ہے،
یہ مسلمانوں کی دکانوں کا ہے،جو رات کی تاریکی میں جلا دی گئیں..💔
آپ اس امت کی قیادت کی علامت ہیں، آپ اس سرزمین کی وہ معتبر آواز ہیں جسے لوگ حق سمجھتے ہیں۔ لیکن آج آپ کی خاموشی اس ظلم کو ہوا دے رہی ہے۔ کیا یہ خاموشی قیامت کے دن آپ کے لیے سوال نہ بنے گی؟