پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عمران خان ایک متنازع شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ ایک زمانے میں کرکٹ کے میدان کے نامور کھلاڑی اور بعد ازاں سیاست کے میدان میں انقلابی رہنما کے طور پر ابھرنے والی اس شخصیت پر آج یہ الزام ہے کہ ان کی تیس سالہ سیاسی جدوجہد کا حاصل صرف ایک ایسی نسل ہے جو اپنی ریاست سے زیادہ دشمن سے ہمدردی رکھتی ہے -1-3. اس مضمون میں ہم اس دعوے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح مبینہ طور پر ایک سیاسی بیانیے نے نوجوان نسل کو “اپنی دھرتی ماں” سے بیزار کر دیا ہے۔
ہیرو سے رہنما کا سفر
عمران خان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کے قیام سے ہوا۔ اس وقت وہ قومی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ دلانے والے ہیرو تھے، اور ان کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی۔ انہوں نے سیاست میں ایک نئے لہجے کے ساتھ قدم رکھا – جو روایتی سیاست سے ہٹ کر عوام میں براہ راست بات کرتا تھا۔ تاہم، ان کی اس نئی سیاست نے آہستہ آہستہ ایک ایسا بیانیہ تیار کیا جس میں موجودہ سیاسی نظام اور اس کے تمام کرداروں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا -10
مخالفین کو دشمن قرار دینے کی روایت
تحریک انصاف کی سیاست کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ سیاسی مخالفین کو صرف حریف ہی نہیں بلکہ غدار اور چور قرار دیا گیا۔ یہ انداز خاص طور پر 2011 کے لاهور جلسے کے بعد شدت اختیار کر گیا، جب ڈرون فوٹیج اور ترانوں کے ساتھ ایک نئی قسم کی سیاست کا آغاز ہوا -3. اس بیانیے کے تحت کسی بھی سیاسی مخالف کو سننے یا ان سے اختلاف کو جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق، اس طرزِ سیاست نے عوام میں یہ ذہنیت پیدا کی کہ جو لوگ حکومت میں ہیں وہ نہ صرف نااہل ہیں بلکہ ان کا وجود ہی قومی مفاد کے خلاف ہے -
عمران خان کی سیاست پر تجزیہ
muhammadumarefandi.rf.gd/analysis-on-...
#Pakistan #Poltics #ImranKhan #PTI #IRANWAR #IRANWAR2026